حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین استاد قرائتی نے ایک سادہ اور بامعنی مثال کے ذریعے اللہ کی بندگی میں اخلاص کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ جس خدا نے ہمیں وجود، عقل، توانائی اور زندگی کے تمام وسائل عطا کیے اور نیک اعمال کا دس گنا اجر دینے کا وعدہ کیا ہے، وہی ہماری زندگی اور ہماری سرگرمیوں کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔
استاد قرائتی نے اخلاص کی اہمیت سمجھانے کے لیے باپ اور بیٹے کی مثال پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک باپ اپنے بیٹے کو زمین، لوہا، سیمنٹ، گچ اور دیگر تعمیراتی سامان کے ساتھ مکان بنانے کے تمام اخراجات فراہم کرے اور بیٹا اس زمین پر مکان تعمیر کر دے، پھر باپ کہے کہ میں یہ مکان تمہارے دوستوں کی پیش کردہ قیمت سے دس گنا زیادہ میں خریدوں گا، لیکن بیٹا اسے اپنے دوستوں کے ہاتھ فروخت کر دے تو عقل مند لوگ ایسے بیٹے کو بے مروّت اور ناشکرا کہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ لوگ اس بیٹے سے کہیں گے: تمہارا وجود اور شناخت تمہارے باپ کی وجہ سے ہے، زمین تمہارے باپ نے دی، تعمیراتی سامان تمہارے باپ نے فراہم کیا، تعمیر کا خرچ بھی اسی نے اٹھایا اور مکان بننے کے بعد وہ تمہیں دوسروں سے دس گنا زیادہ قیمت دینے کے لیے تیار تھا؛ پھر بھی تم نے اسے اپنے دوستوں کے ہاتھ فروخت کر دیا؟
استاد قرائتی نے اس مثال کو خداوند متعال کے ساتھ انسان کے تعلق پر منطبق کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا وجود خدا کی عطا ہے، ہماری عقل، توانائی اور فکر اسی کی دی ہوئی ہے۔ زمین، آسمان، بادل، بارش اور سورج، سب اسی کے ہیں۔ اس کے باوجود خداوند فرماتا ہے کہ میری راہ میں عمل کرو اور نیکی کا دس گنا اجر پاؤ:
«مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا»
انہوں نے تأکید کی کہ جب خداوند نے زندگی کے تمام وسائل عطا کیے اور نیک عمل کے بدلے کئی گنا اجر کا وعدہ کیا ہے تو اگر انسان اپنی زندگی اور صلاحیتوں کو غیر خدا کی خاطر صرف کرے تو یہ ایک گھاٹے کا سودا ہے اور وہ سرزنش کا مستحق ہوگا۔









آپ کا تبصرہ